غزل
आह जिस वक़्त सर उठाती है
आह जिस वक़्त सर उठाती है
یہ غزل جدائی اور یادوں کے شدید درد و احساسات کو بیان کرتی ہے۔ اس میں محبوب کے دلکش انداز اور دور رہتے ہوئے بھی اس کی یادوں میں کھو جانے کے غم کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ نظم عاشق کی بے چینی اور انتظار کے گہرے جذبات کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
आह जिस वक़्त सर उठाती है
अर्श पर बर्छियाँ चलाती है
آہ وہ وقت ہے جب وہ اپنا سر اٹھاتی ہے اور عرش پر نیزے چلاتی ہے۔
2
नाज़-बरदार-ए-लब है जाँ जब से
तेरे ख़त की ख़बर को पाती है
जब से तुम्हारे ख़त की ख़बर मिली है, मेरी जान ने नज़ाकत से होंठों पर ठहरना शुरू कर दिया है।
3
ऐ शब-ए-हिज्र रास्त कह तुझ को
बात कुछ सुब्ह की भी आती है
اے شبِ ہجر، سچ بتا مجھے، کیا تمہیں صبح کی بات بھی کچھ آتی ہے؟
4
चश्म-ए-बद्दूर-चश्म-ए-तर ऐ 'मीर'
आँखें तूफ़ान को दिखाती है
اے میر! بد چاند کی آنکھ، ستارے کی آنکھ، तूफ़ान کو اپنی آنکھوں سے دکھا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
