غزل
پایا جی میں نے تو رام رتن دھن پایا
پایا جی میں نے تو رام رتن دھن پایا
پایو جی مہیں تو رام رتن دھن پایو" یہ غزل میرا بائی کے گہرے روحانی تجربے کو بیان کرتی ہے، جس میں وہ بھگوان رام کے نام کے انمول خزانے کو حاصل کرنے کا اعلان کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہ لازوال دولت انہیں اپنے سدگرو کی مہربانی سے ملی ہے، جو دنیاوی املاک سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ یہ روحانی دولت نہ خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے اور نہ ہی چور اسے چرا سکتا ہے، بلکہ یہ روز بروز بڑھتی رہتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
पायो जी म्हें तो राम रतन धन पायो।
مَیں نے تو رام رتن دھن پا لیا ہے۔ یہ بھگوان رام کے نام میں انمول روحانی دولت پانے کی علامت ہے۔
2
वस्तु अमोलक दी म्हारे सतगुरू, किरपा कर अपनायो॥
میرے سَت گُرو نے مجھے ایک انمول چیز عطا کی، اور اپنی کرپا سے مجھے اپنا لیا۔
3
जनम-जनम की पूँजी पाई, जग में सभी खोवायो।
میں نے کئی جنموں کی پونجی حاصل کر لی ہے، اور اس دنیا میں باقی سب کچھ کھو دیا ہے۔
4
खरच न खूटै चोर न लूटै, दिन-दिन बढ़त सवायो॥
یہ خرچ کرنے سے ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی چور اسے لوٹ سکتے ہیں۔ یہ دن بہ دن بڑھتا ہی رہتا ہے۔
5
सत की नाँव खेवटिया सतगुरू, भवसागर तर आयो।
جب ستگرو سچائی کی کشتی کے ملاح ہوتے ہیں، تب انسان بھوساگر کو عبور کر جاتا ہے۔
6
'मीरा' के प्रभु गिरिधर नागर, हरख-हरख जस पायो॥
میرا کے مالک گردھر ہیں، جو چتر (ناگر) ہیں، اور میرا نے نہایت خوشی سے ان کی تعریف کی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
