Sukhan AI
غزل

پگ گھنگرو باندھ میرا ناچی رے

پگ گھنگرو باندھ میرا ناچی رے
میرا بائی· Ghazal· 5 shers

یہ غزل میرا بائی کی بھگوان کرشن کے تئیں اٹوٹ عقیدت کو بیان کرتی ہے، جہاں وہ پاؤں میں گھنگرو باندھ کر ناچتی ہیں اور خود کو نارائن کی داسی مانتی ہیں۔ یہ سماج اور کنبے کی مخالفت کے باوجود ان کے مضبوط ارادے کو نمایاں کرتی ہے، اور رانا جی کے بھیجے ہوئے زہر کے پیالے کو ہنستے ہوئے پینے کا واقعہ ان کے گہرے اور غیر متزلزل ایمان کا ثبوت ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
पग घूँघरू बाँध मीरा नाची रे।
میرا نے اپنے پاؤں میں گھنگرو باندھ کر رقص کیا۔
2
मैं तो मेरे नारायण की आपहि हो गई दासी रे।
میں تو اپنے نارائن کی خود ہی داسی بن گئی ہوں۔
3
लोग कहै मीरा भई बावरी न्यात कहै कुलनासी रे॥
لوگ کہتے ہیں کہ میرا پاگل ہو گئی ہے، اور اس کے رشتہ دار کہتے ہیں کہ اس نے خاندان کی عزت خراب کر دی ہے۔
4
विष का प्याला राणाजी भेज्या पीवत मीरा हाँसी रे।
رانا نے زہر کا پیالہ بھیجا، اور میرا اسے پیتے ہوئے مسکرائی۔
5
'मीरा' के प्रभु गिरिधर नागर सहज मिले अविनासी रे॥
میرا کے پربھو، گِریدھر ناگر، جو فنا نہ ہونے والے ہیں، آسانی سے مل جاتے ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

پگ گھنگرو باندھ میرا ناچی رے | Sukhan AI