“Upon the gallows is my bed, how then can slumber grace my head?”
ہماری سیج سولی کے اوپر بچھی ہوئی ہے۔ ایسے میں ہمیں نیند کیسے آ سکتی ہے؟
یہ دوہا ایک بہت ہی متاثر کن تصویر پیش کرتا ہے، ہے نا؟ بھلا کوئی سولی پر آرام اور سکون سے کیسے سو سکتا ہے! یہاں 'سولی' محض موت کی جگہ نہیں ہے؛ یہ زندگی کی بے پناہ مشکلات، گہری روحانی ریاضت، یا خطرات اور قربانیوں سے بھرے راستے کا ایک قوی استعارہ ہے۔ شاعر دراصل یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب آپ کی آرام گاہ ہی ایسے چیلنجنگ اور کٹھن راستے پر ہو، تو آپ بھلا عام سکون، راحت یا نیند کیسے پا سکتے ہیں؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
