“Finish your namaz if your senses are sound, O Sheikh! I am entranced by the azan's sweet sound.”
اے شیخ! اگر تم ہوش میں ہو تو اپنی نماز پوری کرو۔ میں تو اذان میں ہی مگن ہو گیا ہوں۔
یہ شعر مذہبی عقیدت کے دو مختلف نقطہ ہائے نظر کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ شاعر شیخ سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی نماز پوری کریں اگر ان کے حواس قائم ہیں۔ لیکن شاعر کے لیے، اذان کی سریلی پکار ہی اتنی گہری اور دل کو چھو لینے والی ہے کہ وہ اس میں ڈوب کر مست ہو گئے ہیں، رسمی نماز سے پہلے ہی۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقی عقیدت محض رسموں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک وجدانی کیفیت بھی ہو سکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
