“What are the world's tempests, and what are we, 'Mariz'?The ocean's might has been exhausted in the rudder.”
دنیا کے طوفان کیا ہیں اور ہم 'مریض' کیا ہیں؟ سمندر کی بے پناہ طاقت پتوار میں ہی ختم ہو گئی ہے۔
واہ، مریز صاحب کا یہ شعر کتنا گہرا ہے! وہ کہتے ہیں، 'دنیا کے طوفان کیا ہیں اور ہم کیا؟' گویا بیرونی مشکلیں ان کے سامنے پھیکی پڑ جاتی ہیں کیونکہ جو اندرونی کشمکش انہوں نے جھیلی ہے، وہ کہیں زیادہ بڑی رہی ہے۔ 'دریا کا زور پتوار میں خالی ہو گیا ہے' والی سطر ایک زبردست تصویر پیش کرتی ہے: یہ بتاتی ہے کہ زندگی کی ساری بڑی، زبردست طاقتیں، 'سمندر کا زور'، ان کی اپنی چھوٹی سی 'پتوار' – ان کی روح یا ارادے میں – سمٹ کر پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں، انہیں پوری طرح سے تھکا چکی ہیں، اور اب باہر کا کوئی بھی طوفان بے معنی لگتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
