“Why do you now, by speaking thus, my sorrow amplify,That this whole life without you, felt tasteless to my eye.”
اب تم ایسا کہہ کر میرا غم کیوں بڑھا رہے ہو، کہ تمہارے بغیر یہ ساری زندگی مجھے پھیکی لگی۔
یہ شعر ہجر کے درد اور محبت کی تلخ حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے کہہ رہا ہے، "اب تم یہ کہہ کر میرا غم کیوں بڑھا رہے ہو کہ تمہاری ساری زندگی میرے بغیر پھیکی اور بے مزہ تھی؟" اس میں ایک عجیب سی ستم ظریفی ہے کہ محبوب کی دیر سے کی گئی یہ اعترافی بات کہ اس کے بغیر زندگی بے رنگ تھی، خود شاعر کے دکھ کو اور گہرا کر دیتی ہے، گویا ماضی کا درد حال میں بھی شدت اختیار کر لیتا ہے۔ "پھیکی زندگی" کی تشبیہ جدائی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خالی پن اور بے کیفی کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
