'મરીઝ' એ રમ્ય નાદાનીઓને મુદ્દત થવા આવી,
હવે એ પણ ખબર ક્યાં છે, હતી આશાઓ કોના પર!
“Marīz, a long time has passed since those charming follies, Now I don't even know, upon whom those hopes truly lay!”
— مریض
معنی
مریض، ان دلکش نادانیوں کو ایک مدت ہو چکی ہے۔ اب تو یہ بھی یاد نہیں کہ وہ امیدیں کس پر رکھی گئی تھیں۔
تشریح
مریز کا یہ شعر وقت کے گزرنے کے ساتھ یادوں کے مدھم ہونے کی ایک گہری حقیقت بیان کرتا ہے۔ شاعر اپنی "رمئی نادانیوں" کو یاد کرتا ہے، جو کبھی اس کی جوانی کا حصہ تھیں۔ اب اتنی مدت گزر جانے کے بعد اسے یہ بھی یاد نہیں کہ اس کی امیدیں اور آرزوئیں کس پر مرکوز تھیں، جو زندگی کی عارضی نوعیت اور جذبات کے بدلتے روپ کو خوبصورتی سے دکھاتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
