'મરીઝ' એવા શરાબીની દશા સુધરી શકે ક્યાંથી?
શિખામણ આપનારો પણ હસે છે જેની તૌબા પર.
“Mariz, how can a drunkard's plight ever mend?When even his advisor laughs at vows he can't transcend.”
— مریض
معنی
مریز، ایسے شرابی کی حالت بھلا کیسے سدھر سکتی ہے، جس کی توبہ پر نصیحت کرنے والا بھی ہنستا ہے؟
تشریح
مریض اپنے اس شعر میں ایک ایسے شرابی کی دگرگوں حالت بیان کرتے ہیں جس کی اصلاح کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ یہاں شاعر ایک تلخ حقیقت پیش کرتے ہیں کہ جب شرابی کو نصیحت کرنے والا بھی اس کی بار بار کی توبہ (شراب چھوڑنے کے وعدے) پر ہنسنے لگے، تو پھر اس شخص کی حالت کیسے سدھر سکتی ہے؟ یہ شعر شراب کی لت کی سنگینی اور اس سے چھٹکارے کی بظاہر ناممکن صورتحال کو دکھاتا ہے، جہاں خیر خواہ بھی مایوس ہو چکے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev15 / 15
