“In public, such a grandeur that keeps one from drawing near,From within, such a tenderness that won't let one disappear.”
باہر سے ایسا رُعب یا دبدبہ ہے کہ کوئی پاس نہیں آ پاتا۔ لیکن اندر سے اتنی سنبھال اور پریم ہے کہ کوئی دور جا نہیں پاتا۔
یہ شعر محبوب کی دوہری شخصیت کو خوبصورتی سے ظاہر کرتا ہے: باہر سے ایک شان و شوکت اور دبدبہ ہے جو کسی کو قریب آنے نہیں دیتا، لیکن اندر سے اتنی نزاکت اور اپنائیت ہے جو دور جانے بھی نہیں دیتی۔ یہ ایک ایسی دلکش کشش ہے جو دور بھی رکھتی ہے اور ساتھ بھی جوڑے رکھتی ہے۔ بیرونی عظمت ایک باوقار ڈھال ہے، جبکہ اندرونی دیکھ بھال ایک اٹوٹ بندھن بناتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
