છોડ એવા શ્વાસને કે કશો એમાં દમ નથી,
જે મોતનો પસીનો સૂકવવા હવા ન દે.
“Abandon such a breath that holds no life, Which gives no air to dry the sweat of death.”
— مریض
معنی
ایسی زندگی کو ترک کر دیں جس میں کوئی جان یا طاقت نہ ہو، جو موت کی تکلیف یا کشمکش کو کم کرنے کے لیے ہوا بھی نہ دے سکے۔
تشریح
یہ شعر ہمیں اپنی زندگی کے معیار پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ اگر ہماری سانسوں میں—ہمارے وجود میں—حقیقی جوش یا مقصد نہیں ہے، تو وہ بے معنی ہیں۔ 'موت کا پسینہ' ایک طاقتور استعارہ ہے جو حتمی خوف یا جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے، اور اگر ہماری زندگی اس لمحے میں تسلی یا ہمت دینے والی ہوا بھی نہیں دے سکتی، تو وہ واقعی طاقت اور معنی سے خالی ہے۔ یہ حوصلے اور سچائی کے ساتھ جینے کی ایک گہری دعوت ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
