“If that truth turns to silence, it becomes pure oppression,A truth that cannot move unless in every home it finds expression.”
اگر وہ بات خاموش رہے تو ظلم بن جاتی ہے، وہ بات جو گھر گھر کہے بغیر نہیں چل سکتی۔
یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ کچھ سچائیاں اتنی اہم ہوتی ہیں کہ انہیں چپ رکھنا خود ایک طرح کا ظلم بن جاتا ہے۔ شاعر سمجھاتے ہیں کہ کوئی بھی ضروری بات تب تک اثر نہیں دکھا سکتی، جب تک وہ ہر گھر تک نہ پہنچے۔ یہ ایک خوبصورت پیغام ہے کہ سچ کو کبھی چھپانا نہیں چاہیے، بلکہ اسے کھل کر بولنا چاہیے تاکہ وہ اپنی صحیح جگہ بنا سکے اور ناانصافی پر جیت حاصل کر سکے
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
