“The knocks on my finger remained, unheard at the door,May no closed door show such hesitation evermore.”
دستک دینے کی کوشش انگلی میں ہی رُک گئی، یعنی جھجک کی وجہ سے دروازے تک آواز نہ پہنچ سکی۔ شاعر دعا کرتا ہے کہ کوئی بند دروازہ کبھی اتنی جھجک کا مظاہرہ نہ کرے۔
یہ دوہا ایک ان کہی ملاقات کے کرب کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ "دستک انگلیوں میں رہ گئی" کا تصور ایک بند دروازے پر کھڑے شخص کی گہری ہچکچاہٹ اور نامکمل خواہش کو اجاگر کرتا ہے، شاید اس نے اتنی آہستگی سے دستک دی کہ وہ سنی ہی نہ گئی۔ یہ ایک دلی آرزو ہے کہ کوئی رکاوٹ یا بند دل کبھی ایسی جھجھک نہ دکھائے، جو ان ان کہی دوریوں سے ہونے والے گہرے درد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
