માની લીધું કે પ્રેમની કોઇ દવા નથી,
જીવનના દર્દની તો કોઈ સારવાર દે.
“I've accepted that for love there is no cure,But for life's pain, some remedy procure.”
— مریض
معنی
مقرر تسلیم کرتا ہے کہ محبت کا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن زندگی کے درد کے لیے کسی تدبیر یا علاج کی التجا کرتا ہے۔
تشریح
یہ شعر محبت اور زندگی کے درد کے درمیان ایک لطیف فرق کو بیان کرتا ہے۔ شاعر بڑی مایوسی سے تسلیم کرتا ہے کہ عشق کا درد لا علاج ہے، اس کی کوئی دوا نہیں۔ لیکن پھر، ایک دلگداز التجا کے ساتھ، وہ پوچھتے ہیں کہ کیا زندگی کے عام، روزمرہ کے دکھوں کے لیے کم از کم کوئی علاج نہیں مل سکتا؟ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں رومانوی دکھ کو ایک طرف رکھ کر، زندگی کی عام مشقتوں سے نجات پانے کی انسانی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
