એને તું સંયમ કહે, તારી કૃપા, કિંતુ અમે, મનમાં નબળાઈ છે તેથી દુર્દશા કહેતા નથી.

“You call it self-restraint, your grace; but we, we do not call it misery, Though weakness lies within the heart, we choose to not articulate.”

— مریض
معنی

آپ اسے ضبط یا اپنی مہربانی کہتے ہیں، لیکن ہم، دل میں کمزوری ہونے کے باوجود، اس حالت کو بدحالی نہیں کہتے۔

تشریح

یہ شعر کتنا دلکش ہے، ہے نا؟ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے احساسات کو کیسے نام دیتے ہیں اور حقیقت میں اندر کیا محسوس کرتے ہیں۔ جہاں کوئی ہماری خاموشی کو 'ضبط' یا 'احسان' کہہ سکتا ہے، وہیں شاعر بتاتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ اندرونی کمزوری سے آتا ہے، پھر بھی وہ اسے 'بدحالی' نہیں کہتے۔ یہ اپنے وقار کو برقرار رکھنے اور اپنی گہری کمزوریوں کو ظاہر نہ کرنے کا ایک دل کو چھو لینے والا طریقہ ہے، چاہے وہ دل میں بہت شدت سے محسوس ہوتی ہوں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.