“When both grow equal, just a slight, then is the drunkard's pure delight;But you reversed it, brought me plight, O beloved, your eyes did not play.”
جب دونوں (پیمانے) برابر ہوتے ہیں، تب شرابی کو مزا آتا ہے۔ مگر تم نے اسے الٹ کر سزا بنا دیا، اے محبوب، تمہاری آنکھوں نے محبت کا کھیل نہیں کھیلا۔
آہ، یہ شعر اَن کہے محبت کے درد کو کتنی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے! یہ اُس نایاب اور لمحاتی پل کی بات کرتا ہے جب دو دلوں کا جوڑ بالکل صحیح لگتا ہے، جیسے ایک شرابی کو اپنی شراب میں صحیح توازن مل جائے۔ شاعر چاہتا ہے کہ اُس کے محبوب کی آنکھوں میں بھی وہی کھیل، وہی پیار دکھے، جس سے ایک میٹھا نشہ پیدا ہو۔ مگر افسوس، محبوب کی بے حسی اِس ممکنہ مسرت کو 'پلٹ' دیتی ہے، اور محبت کا یہ میٹھا نشہ ایک سنگین سزا بن جاتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
