“The soil makes a clamor, "Consider me your beloved!" But no one hears it, so what is there to complain about?”
مٹی شور مچاتی ہے، "مجھے اپنا محبوب مان لو!" لیکن کوئی اسے سنتا نہیں، تو شکایت کس بات کی ہے؟
یہ شعر ایک دل چھو لینے والی، تھوڑی کڑوی سچائی کو ظاہر کرتا ہے، ہے نا؟ تصور کیجیے اس معمولی مٹی کا، جو شاید کسی انجان عاشق یا غیر سراہے گئے فنکار کی نمائندگی کرتی ہے، پوری طاقت سے پکار رہی ہے، 'مہربانی کر کے مجھے اپنا محبوب مان لو!' لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس کی جذباتی پکار ان سنی رہ جاتی ہے، کوئی اسے سنتا ہی نہیں۔ شاعر پھر ایک گہرا سوال پوچھتا ہے: اگر کوئی آپ کی چاہت کو محسوس ہی نہیں کرتا، تو نظر انداز کیے جانے کی شکایت کرنے کا کیا فائدہ؟ یہ ان سنے پیار کے گہرے درد اور مکمل تنہائی میں شکایت کی بے معنی کو دکھاتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
