વહે તો ખૂન છો વહેતું, નહિ તો છો ઠરી રહેતું!
સહેવો દાગ કાંઈ એ, અરે! ફરિયાદ શાની છે?
“Let blood flow if it must, or let it stay congealed!What kind of wound is this to bear? Oh, what is there to complain about?”
— کلاپی
معنی
خون بہے تو بہنے دو، ورنہ جما رہنے دو! یہ کس قسم کا زخم ہے جو برداشت کرنا ہے؟ ارے، شکایت کی کیا بات ہے؟
تشریح
ارے، یہ شعر تو درد کی ایک بہت گہری، تقریباً تھکی ہوئی قبولیت کو ظاہر کرتا ہے، ہے نا؟ جیسے کہنے والا کہہ رہا ہو، "زخم سے خون بہتا رہے یا جم جائے، اب کیا فرق پڑتا ہے؟" اس میں ایک گہرا صبر ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ تکلیف اتنی بڑی یا مستقل ہے کہ شکایت کرنے کا خیال بھی بالکل بے معنی لگتا ہے۔ یہ 'داغ' اور نشان ان کی ہستی کا اتنا لازمی حصہ بن گیا ہے کہ اب یہ صرف برداشت کرنے کی چیز نہیں، بلکہ تقریباً ایک خاموش ساتھی بن گیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
