“Alas! The flying dagger, I snatched and shook within my heart!What hand could then be raised? What reason for complaint is there now?”
میں نے خود اُڑتے ہوئے خنجر (جو تکلیف یا مصیبت کی علامت ہے) کو اپنے دل میں چھین کر ہلا دیا۔ لہٰذا، اب مجھے کسی اور سے یا اپنی موجودہ حالت پر شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
یہ شعر ایک گہرے جذبے کو بیان کرتا ہے جہاں شاعر خود اپنے درد کو گلے لگاتے ہیں۔ اُڑتا ہوا خنجر کسی تکلیف یا صدمے کی علامت ہو سکتا ہے، جسے دل میں کھینچ کر ہلانے کا مطلب ہے اس درد کو مکمل طور پر اپنا لینا یا اسے گہرائی سے محسوس کرنا۔ جب انسان خود ہی اپنے درد کا انتخاب کر لے یا اسے اتنی گہرائی سے اپنا لے، تو پھر کسی اور پر الزام لگانے یا شکایت کرنے کا کیا فائدہ؟ یہ اپنی تکلیف کو قبول کرنے اور اس کے تئیں ایک لاپرواہ یا بہادر رویے کو ظاہر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
