“Upon whose heart My love's mark is borne, smeared with dust,Who can prevent their entry to Paradise, by whom they're blessed?”
جس کے دل پر میرے عشق کا نشان خاک سے آلودہ ہو کر بھی ثبت ہے، اسے بہشت میں داخل ہونے سے کون روک سکتا ہے؟
یہ خوبصورت شعر ہمیں بتاتا ہے کہ جس کے دل پر الٰہی محبت کی گہری چھاپ ہو، اور جسے 'خاک آلود' یعنی مٹی میں ملا ہوا کہا گیا ہے، اسے جنت میں داخل ہونے سے بھلا کون روک سکتا ہے؟ یہاں 'خاک' شاید عاجزی یا عشق کی راہ میں آنے والی مشکلات کی نشانی ہے، جو محبت کے نشان کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔ شاعر کا کہنا ہے کہ ایسے سچے عاشقوں کے لیے جنت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، کیونکہ ان کا خالص عشق ہی سب سے بڑی سند ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
