“Then enough! My heart grew wild, with open eyes I saw;O oppressor, still you are mine, truly, my dearest master!”
بس بہت ہوا! میرے دل نے مدہوش ہو کر کہا اور میں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ اے ستمگر، پھر بھی تو میرا ہی ہے، سچ مچ تو میرا پیارا استاد ہے!
یہ شعر اس گہرے عشق کو بخوبی بیان کرتا ہے جہاں دل نے اپنے محبوب کے ستم کو بھی اپنا لیا ہے۔ شاعر کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ اس کا محبوب اسے تکلیف دے رہا ہے، پھر بھی وہ اسے اپنا مانتا ہے۔ یہ محبت کی اس اونچائی کو दर्शाता ہے جہاں ظالم محبوب کو بھی 'پیارا استاد' کہہ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
