“O beloved! I always drank sorrow's cups, offering my neck to you;You neither tore me with a dagger, nor let me drink from love's cup true!”
اے محبوب! میں نے ہمیشہ غموں کے جام پیے اور اپنی گردن تمہارے سامنے رکھ دی؛ تم نے نہ تو خنجر سے ٹکڑے کیے اور نہ ہی مجھے عشق کا جام پلایا۔
یہ شعر یکطرفہ محبت کی گہری اذیت کو کتنی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے، ہے نا؟ عاشق ہمیشہ غم کے پیالے پیتا رہا ہے اور مکمل طور پر خود کو محبوب کے حوالے کر دیا ہے، اپنی گردن بھی پیش کر دی ہے، لیکن محبوب کی بے اعتنائی کا رونا رو رہا ہے۔ یہ ایک درد بھری پکار ہے جو کہتی ہے، 'نہ تو آپ نے مجھے آخری وار سے نجات دی، اور نہ ہی اپنے عشق کا جام پلایا۔' عاشق ایک ایسی اذیت ناک صورتحال میں پھنسا ہے جہاں اسے نہ تو قبول کیا گیا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر رد کیا گیا ہے، بس ہمیشہ کے لیے تکلیف میں ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
