“They who recoil from pain, feel wounds though none are shown; But we, when wounds are borne, find beauty in their own.”
جو زخموں سے ڈرتے ہیں، وہ بغیر زخم کے بھی زخم سہتے ہیں۔ لیکن ہم تو زخم کھا کر بھی اس میں خوبی مانتے ہیں۔
یہ شعر درد کے ساتھ ہمارے دو مختلف رویوں کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ کچھ لوگ زخموں سے اس قدر خائف رہتے ہیں کہ وہ بغیر چوٹ کے بھی درد محسوس کرتے ہیں، گویا وہ خیالی تکلیف میں مبتلا ہوں۔ لیکن شاعر کہتے ہیں کہ ہم تو وہ ہیں جو زخم کھانے کے بعد بھی ان میں ایک خاص خوبصورتی اور خوبی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یہ استقامت اور لچک کا پیغام ہے کہ ہم زندگی کی مشکلات کو کیسے گلے لگاتے ہیں اور ان میں سے کچھ انمول سبق حاصل کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف خوف زدہ رہیں۔
آڈیو
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
