“We found the sweet pleasure of affluence in mendicancy;Where aspirations are dismissed, no note of servitude should be heeded.”
ہم نے امارت کا میٹھا لطف فقیری میں پایا، جہاں خواہشات کو رد کر دیا جائے، وہاں غلامی کے کسی فرمان پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔
یہ خوبصورت شعر ایک حیرت انگیز تضاد کے ساتھ کھیلتا ہے، یہ بتاتا ہے کہ 'امارت کا میٹھا مزہ' دراصل دولت میں نہیں، بلکہ ایک فقیر کی سادہ اور بے نیاز زندگی میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم اپنی لامتناہی خواہشات اور تمناؤں کو ترک کرنا سیکھ لیتے ہیں، تب ہی ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہوتے ہیں۔ اس آزادی میں، ہمیں دنیا کے مطالبات یا اپنی ہوس کی 'غلامی' کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، جس سے ایک گہری، اندرونی خوشحالی حاصل ہوتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
