“I am the sin of birth, a flaw throughout my being. You are the giver of sorrow, please grant me liberation.”
میں پیدائش سے گنہگار ہوں اور سر سے پاؤں تک عیبوں سے بھرا ہوا ہوں۔ تم دکھوں کو مٹانے والے داتا ہو، براہ کرم میری حفاظت کرو۔
یہ شعر ایک گہرا اعتراف ہے، جہاں کبیر خود کو پیدائشی گناہ کا مظہر قرار دیتا ہے۔ 'نخ سِکھ بھرا وِکار' کا مطلب ہے کہ اس کی خامی صرف ظاہری نہیں، بلکہ اس کے وجود میں رچ گئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا جذبہ یہ ہے کہ وہ خدا کو دکھ کا سبب مانتا ہے، مگر اسی سے نجات کی فریاد کرتا ہے۔ یہ کبیر کا وہ منفرد نقطہ نظر ہے جو اقرار کرتا ہے کہ نجات صرف الٰہی فضل سے ممکن ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
