“Opening the curtain of the pot, [he] gave a sight to the eyes. Oh, dear beloved, companion of the soul, friend of the heart.”
گھٹ کا پردہ کھول کر، اس نے سامنے دیدار دیا۔ اے بال سنےھی سانیاں، تو ہی اندر کا یار ہے۔
جب کबीर شاعر 'غٹ کا پردہ کھول کر' کہتے ہیں، تو وہ انسان کے اندر کے وہ پردے ہٹانے کی بات کرتے ہیں جو ہمیں حقیقت سے دور رکھتے ہیں۔ یہ 'غٹ' ہمارا محدود وجود ہے، اور جب اس کا پردہ اٹھتا ہے، تو روح کو دیدار نصیب ہوتا ہے۔ یہ اشارہ ہے کہ سچا محبوب، جو روح کا ساتھی ہے، وہ باہر نہیں بلکہ ہمارے دل کے گہرائیوں میں ہی موجود ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
