“I could not find the balm for my heart, only found a roar. Kabir said, 'If the sky tore, why did the tailor sew it?'”
دل کا مرہم نہ ملا، جو ملا وہ گرج۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر آسمان پھٹ جائے تو درزی اسے کیوں سِلے گا؟
شایر کا اشارہ ہے کہ دل کے زخموں کے لیے مرہم کی تلاش تھی، مگر جو ملا وہ صرف گرج تھی۔ یہ زندگی کے گہرے دکھ اور عارضی ٹوٹکوں کے درمیان کا تضاد ہے۔ کबीर یہاں ایک بہت بڑی نکتہ چینی کرتے ہیں: اگر آسمان پھٹ بھی جائے، تو بھی درزی اسے سِلا دے گا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ بڑے سے بڑے وجودی ٹوٹے ہوئے سچ کو بھی معمولی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
