“You alone, the inner Self, are the foundation of the soul. If you abandon your hand, who will ferry across?”
انتریامی یعنی جو اندر موجود ہے، تم ہی روح کا سہارا ہو۔ اگر تم اپنا ہاتھ چھوڑ دو گے تو کون تمہیں پار لے جائے گا۔
کبیر کے شعر میں روح اور ذاتِ الٰہی کے تعلق کی گہرائی بیان کی گئی ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ آپ ہی اندرونی ذات ہیں، جو ہماری ہستی کا بنیادی سہارا ہیں۔ 'پَر' (تَر) کا استعارہ زندگی کے سفر کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ہر ایک کو ایک مشکل دریا پار کرنا ہے۔ یہ شعر ایک لازوال حقیقت کا پیغام دیتا ہے کہ ہماری بقا اور فتنوں سے نجات صرف اس نعماتِ الٰہی پر منحصر ہے جو آپ عطا کرتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
