“Knowing, how can one extinguish the lamp that has not been lit? The blind person found another blind, who can show the way?”
وہ کیسے بجھا سکتا ہے وہ چراغ جو جلایا ہی نہیں گیا؟ اور جب اندھے کو کوئی دوسرا اندھا مل جائے تو راستہ کون دکھائے گا؟
دیکھیں، شاعر کबीर یہاں ایک گہرا سوال پوچھ رہے ہیں۔ پہلے مصرعے میں، جو بجھا ہوا دیا ہے، اسے بجھانا ناممکن ہے، جو ہماری اندرونی نادانی کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ایک اندھا شخص کو دوسرا اندھا ملتا ہے، تو یہ معاشرتی فریب کاری کو ظاہر کرتا ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے کے غلط فہمیوں کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ کبیر کا پیغام یہ ہے کہ حقیقی رہنمائی صرف خودی سے ممکن ہے؛ جب تک ہم اپنے اندر کا نور نہیں جگائیں گے، ہمیں باہر سے کوئی راستہ نہیں دکھا سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
