“Let me make this body a lamp, and my soul the wick. Let me water the oil like iron, and let me see my face until I depart.”
مطلب: میں اس جسم کو دیا بناؤں، اور اپنی روح کو اس کی بتی۔ میں لوہے کی طرح تیل سے سینچنا چاہتا ہوں، اور جب تک آپ میرا چہرہ دیکھتے ہیں، میں رہنا چاہتا ہوں۔
یہ شعر ایک گہری روحانی التجا ہے۔ کبیر نے یہاں جسم کو دیا اور روح کو بتی کا استعارہ دیا ہے، جو زندگی کے مقصد کو بیان کرتا ہے۔ شاعر چاہتے ہیں کہ ان کا جسم اس روحانی نور کا ذریعہ بنے اور ان کی روح اس بتی کی طرح جلتی رہے۔ 'مُنہ دیکھنا' کا مطلب ہے خدا کی ذات سے مستقل اور براہ راست ملاقات کی شدید خواہش۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
