अंदेसड़ा न भाजिसी , सदैसो कहियां। के हरि आयां भाजिसी , कैहरि ही पास गयां॥ 255॥
“You will not cross the river, oh friend; you are always saying so. When did Hari come to cross the river? He went away with Hari himself.”
— کبیر
معنی
اے دوست، تم دریا نہیں پار کرو گے، ہمیشہ کہتے رہتے ہو۔ کب ہری آئے کہ دریا پار کریں؟ وہ تو ہری کے ساتھ ہی پاس چلے گئے۔
تشریح
سنو، اس شعر میں کबीर ایک گہرے روحانی سچ کو بیان کر رہے ہیں۔ یہاں دریا زندگی کے بہاؤ کی علامت ہے، اور 'ہری' کی آمد الٰہی وجود یا نجات کی نشاندہی کرتی ہے۔ کबीर کہہ رہے ہیں کہ تم ہمیشہ کہتے رہو گے کہ تم زندگی کی اس ندی کو نہیں پار کر پاؤ گے، مگر جب وہ الٰہی حضور آیا تو وہ اپنے ساتھ ہی چلا گیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ شک کرنا بے معنی ہے؛ سچ کا تجربہ اچانک اور لازمی ہوتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev53 / 10
