“Kabir says, 'What is it that you give, as long as this body lasts? When the body is gone, who will remember the body?'”
کبیر کہتے ہیں کہ جب تک یہ جسم ہے، تم کیا دیتے رہو گے؟ جب جسم ہی نہ رہے گا، تو کون جسم کو یاد کرے گا؟
کبیر کے اس اشعار میں زندگی کی عارضی فطرت کا گہرا فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔ وہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم کس چیز کو اہمیت دیتے ہیں، اور اشارہ کرتے ہیں کہ جسمانی تعلقات عارضی ہیں۔ یہ شاعری یاد دلاتی ہے کہ جب جسم چلا جائے گا، تو کوئی اس کی یاد نہیں رکھے گا، جو ہمیں روحانیت پر توجہ دینے کی ترغیب دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
