“The ascetic does not tie the knot, he takes the stomach's breadth. When Hari stands before and behind, he will give it then.”
साधू گانٹھ نہیں باندھے گا، پیٹ جتنی جگہ لے گا۔ جب ہری آگے اور پیچھے کھڑے ہوں گے، تب دے گا۔
یہ شعر ایک سالک کی سادگی اور زندگی کے گہرے راز کو ظاہر کرتا ہے۔ साधु گُتھی نہ باندھتا، وہ پیٹ جتنی چیز قبول کرتا ہے، جو بے باک قبولیت اور عدمِ تعلق کی علامت ہے۔ کبیر کہتے ہیں کہ حقیقی ادراک اور کمال صرف اس وقت ملے گا جب ہرن (خدا) ہمارے آگے اور پیچھے کھڑا ہو کر ہمیں زندگی کے پورے تجربات سے گزرے گا۔ یہ ایک گہرا سبق ہے کہ زندگی کے سفر کو کسی طے شدہ حد یا تصور کے بغیر قبول کرنا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
