“The fire that catches in the sea, no smoke does it show. So is the life that burns out, whose passing does not glow.”
وہ آگ جو سمندر میں لگتی ہے، اس سے دھواں ظاہر نہیں ہوتا۔ اسی طرح وہ زندگی بھی گزر جاتی ہے، جس کا کوئی اثر یا چمک نہیں ہوتی۔
Kabir اس شعر میں سمندر میں جلنے والی آگ کا استعارہ زندگی کے خاموش گزر جانے سے تشبیہ دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیسے آگ سے دھواں ظاہر نہیں ہوتا، اسی طرح زندگی بھی ایک دم خاموشی سے گزر جاتی ہے۔ یہ شاعری ہمیں سکھاتی ہے کہ وجود کی حقیقت اکثر بڑے دکھاوے سے ماوراء ہوتی ہے۔ کبیر ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہمیں ظاہری علامات سے نہیں، بلکہ زندگی کی گہری حقیقت سے واقف ہونا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
