“I sacrifice myself to the milk, which yields ghee. The life (soul) of Kabir, which is like ghee, is the life of the four Vedas.”
میں اس دودھ کو نذر کرتا ہوں جس سے گھی نکلتا ہے۔ کबीर کی گھی جیسے وجود، چار ویدوں کے وجود کے برابر ہے۔
کبیر اس خوبصورت استعارے کا استعمال کرتے ہیں کہ دودھ سے گھی کیسے نکلتا ہے، تاکہ روحانی پاکیزگی کے عمل کو سمجھایا جا سکے۔ دودھ خام، عالمی مادہ کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ گھی اس خالص، مقدس جوہر کی علامت ہے—یعنی آخری روحانی ادراک۔ کبیر کی اپنی زندگی، جو وہ اس گھی سے تشبیہ دیتے ہیں، چار ویدوں کے علم کا مجموعہ ہے۔ ان کے نقطہ نظر سے یہ بات نکلتی ہے کہ حقیقی الہامی اور حکمت صرف بیرونی کتب میں نہیں، بلکہ اندرونی تزکیے اور تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
