जाति न पूछो साधु की , पूछि लीजिए ज्ञान। मोल करो तलवार का , पड़ा रहन दो म्यान॥
“Do not ask about the caste of a sage, ask about his knowledge. Value the sword, and leave the scabbard where it lies.”
— کبیر
معنی
صوفی کی ذات کے بارے میں نہیں پوچھنا چاہیے، بلکہ اس کے علم کے بارے میں پوچھنا چاہیے۔ جیسا کہ تلوار کی قدر کی جائے، ویسا ہی مانی کو ویسا چھوڑ دینا چاہیے۔
تشریح
یہ اشعار زندگی کے بنیادی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ Kabir کہتے ہیں کہ کسی بھی شخص کی ذات یا نسل پوچھنے کے بجائے، اس کے علم اور گہرے ज्ञान سے متعلق ہونا چاہیے۔ تلوار اور مانی کا استعارہ بہت طاقتور ہے؛ تلوار اصل قابلیت کی علامت ہے، اور مانی صرف ایک ڈھانچہ ہے۔ Kabir کا یہ نکتہ ہمیں ظاہری شکل و صورت سے توجہ ہٹا کر، انسان کے حقیقی جوہر اور وقار کو پہچاننے کی ترغیب دیتا ہے۔
