“Self-respect and deprivation, deprivation and self-respect; may God protect the heart now, for it is the heart's own time.”
خودداری اور محرومی لازم و ملزوم ہیں؛ اب خدا ہی دل کی حفاظت کرے کیونکہ اب دل کا دور آ پہنچا ہے۔
شاعر نے یہاں خودداری اور محرومی کے چولی دامن کے ساتھ کو کمال خوبصورتی سے باندھا ہے، جہاں انا پر سمجھوتہ نہ کرنے کی قیمت اکثر محرومی ہی بنتی ہے۔ جب انسان جھکنے سے انکار کرتا ہے تو اس کے حصے میں خالی پن آتا ہے، اور وہی تشنہ لبی اس کی خودداری کو مزید نکھار دیتی ہے۔ اب چونکہ دل نے کسی مصلحت کے بغیر بس اپنی بات منوانے کی ٹھان لی ہے، اس لیے شاعر دعاگو ہے کہ خدا اسے سلامت رکھے کیونکہ عزتِ نفس کی یہ راہ بڑی کٹھن ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
