“O love whose craft is madness, yes, passion wild and deep—today, through joyous laughter, I shall make a tormentor weep.”
اے جنون کی صفت رکھنے والے عشق، آج مجھے خود ہنس ہنس کر ایک ستم گر کو رلانا ہے۔
اس شعر میں شاعر اپنے جنونِ عشق کو پکار کر ستم گر کے خلاف ایک انوکھا اور دلیرانہ انداز اپناتا ہے۔ وہ محبوب کے ظلم کے سامنے گڑگڑانے یا آنسو بہانے کے بجائے بے پرواہ ہنسی کے ساتھ اس کا غرور توڑنے کا عزم کرتا ہے۔ درد کو مسکراہٹ میں بدل دینا ہی عاشق کی سب سے بڑی فتح بن جاتا ہے، جو ظالم کو خود اپنی بے بسی پر رونے پر مجبور کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
