“Why do I find delight in the world's relentless cruelty, when even your own grace is not complicit in this torment?”
مجھے زمانے کے ستم میں کیوں مزہ آتا ہے، جبکہ اس ظلم میں خود تمہارا کرم بھی شریک نہیں ہے؟
عاشق کو عموماً درد میں بھی سرور تب ملتا ہے جب وہ صدمہ محبوب کی عطا ہو، کیونکہ اس میں اس کی یاد یا توجہ شامل ہوتی ہے۔ مگر یہاں شاعر خود حیران ہے کہ اسے زمانے کے بے رحم ستم سہنے میں یہ عجیب سا لطف کیوں آ رہا ہے، جبکہ اس ستم میں محبوب کا کرم دور دور تک شریک نہیں ہے۔ یہ شعر دل کی اس دکھ بھری کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں انسان غموں کا اس قدر عادی ہو جاتا ہے کہ درد ہی اس کا چین بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
