“Now love's restless quest has reached that desolate domain, where casts no sheltering shade, and no footprints remain.”
عشق کی تلاش اب ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں نہ کوئی سایہ ہے اور نہ ہی کسی کے قدموں کا کوئی نشان موجود ہے۔
اس شعر میں شاعر عشق کے متلاشی مسافر کو مخاطب کرتے ہوئے محبت کی اس انتہا کا ذکر کر رہا ہے جہاں انسان بالکل اکیلا رہ جاتا ہے۔ یہ وہ ویران منزل ہے جہاں نہ تو سکون کی کوئی چھاؤں میسر ہے اور نہ ہی راستے کی رہنمائی کے لیے کسی کے نقشِ قدم موجود ہیں۔ یہ احساس کی اس عمیق تنہائی کو سمیٹتا ہے جہاں اپنی منزل اور اپنا راستہ انسان کو خود ہی تخلیق کرنا پڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
