“Why do your eyes shed tears over Jigar's demise? / A tragedy it may be, yet not of such grave weight.”
جگرؔ کی موت پر تمہاری آنکھیں کیوں آنسو بہا رہی ہیں؟ یہ ایک سانحہ سہی، مگر اتنا اہم بھی نہیں ہے۔
اس شعر میں جگرؔ صاحب نے اپنی ہی موت پر ایک گہرے طنز اور دلکش بے نیازی کے ساتھ بات کی ہے۔ وہ محبوب سے پوچھتے ہیں کہ آخر جگر کی موت پر یہ آنکھیں اشک بار کیوں ہیں، یہ ایک سانحہ سہی مگر دنیا کے لیے کوئی اتنی بڑی قیامت تو نہیں۔ بظاہر یہ خود کو ہلکا جاننے کا انداز ہے، مگر اس کے پسِ پردہ عمر بھر کی بے قدری اور ایک سچے عاشق کا چھلکتا ہوا درد صاف محسوس ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
