“What strange stage of love is this, O cruel one, that these days, quite often, even in your absence, peace finds my heart.”
اے ظالم، یہ محبت کا کون سا مقام ہے کہ آج کل اکثر تیرے بغیر بھی مجھے چین اور سکون آ جاتا ہے۔
روایتی طور پر محبوب کی جدائی ہمیشہ بے قراری اور تڑپ کا باعث ہوتی ہے، لیکن اس شعر میں شاعر عشق کے ایک عجیب اور حیرت انگیز موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔ وہ محبوب کو ہلکے سے شکوے کے ساتھ 'ظالم' کہہ کر تعجب کرتا ہے کہ اب اس کے بغیر بھی دل کو چین اور سکون نصیب ہونے لگا ہے۔ یہ شعر دراصل اس تلخ و شیریں کیفیت کا بیان ہے جہاں جدائی کا درد اتنا پرانا ہو جاتا ہے کہ وہ بالآخر ایک خاموش سمجھوتے اور راحت میں ڈھل جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
