“Let friends sever all ties with me now, O Jigar; for the sun of life has arrived at the rooftop's edge.”
اے جگر، اب دوست مجھ سے تعلقات ختم کر لیں کیونکہ میری زندگی کا سورج لبِ بام آ گیا ہے یعنی میری موت کا وقت قریب ہے۔
جگرؔ مراد آبادی نے اس شعر میں غروب ہوتے آفتاب کو چھت کی منڈیر پر دکھا کر اپنی زندگی کے اختتام کی ایک نہایت دل گداز تصویر کھینچی ہے۔ وہ اپنے مخلص دوستوں سے التماس کر رہے ہیں کہ وہ ان سے اب ناطہ توڑ لیں، کیونکہ ان کے آخری وقت کا سورج بس ڈوبنے ہی والا ہے۔ اس شعر میں شکوہ نہیں بلکہ اپنوں کے لیے ایک درد بھری ہمدردی ہے، تاکہ ان کے دنیا سے رخصت ہونے پر احباب کو جدائی کا گہرا صدمہ نہ سہنا پڑے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
