“Ask not of the heart in the battle of beauty and love; who knows where the poor wretch fell and met its end.”
حسن اور عشق کے معرکے میں دل کا حال مت پوچھو، کیا معلوم کہ وہ غریب کہاں کام آ گیا یعنی مارا گیا۔
شاعر نے یہاں حسن اور عشق کی کشمکش کو ایک عظیم معرکے یعنی میدانِ جنگ کے طور پر دیکھا ہے۔ اس ہنگامے کے درمیان نازک دل کو 'غریب' یعنی بے بس اور لاچار کہہ کر پکارا گیا ہے، جو دونوں طاقتوں کے ٹکراؤ میں کہیں خاموشی سے لقمۂ اجل بن گیا۔ یہاں 'کام آ گیا' کا محاورہ قربان ہونے اور شہید ہو جانے کے گہرے مفہوم میں برتا گیا ہے، جس میں یہ پُرسوز درد چھپا ہے کہ دل اتنی خاموشی سے فنا ہو گیا کہ اس کا سراغ لگانے والا بھی کوئی نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
