“The hunter rejoices, yet let him ponder this well: have I fallen into the snare, or is it merely my shadow that fell?”
شکاری خوش ہے مگر وہ یہ تو سوچے کہ جال کے اندر حقیقت میں میں آیا ہوں یا صرف میرا سایہ آیا ہے۔
اس شعر میں شاعر صیاد کی بے بنیاد خوش فہمی پر ایک دھیما مگر پُراثر طنز کرتا ہے۔ شکاری اس زعم میں شادماں ہے کہ اُس نے پرندے کو اپنے دام میں اسیر کر لیا ہے، مگر پرندہ اُسے غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ آیا وہ خود قید ہوا ہے یا جال کے نیچے صرف اُس کا عکس اور سایہ آیا ہے۔ یہ شعر انسان کی باطنی آزادی کا پُروقار اعلان ہے، جو بتاتا ہے کہ ظاہری زنجیریں کبھی آزاد روح کو اپنا قیدی نہیں بنا سکتیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
