“My own heart's temperament agrees with me no more; most likely, this matter has gone far too deep.”
میرے اپنے دل کا مزاج اب مجھ سے نہیں ملتا، غالباً یہ بات بہت دور تک چلی گئی ہے۔
یہ شعر دل کی اس کیفیت کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں انسان اپنے ہی اندر ایک بیگانگی محسوس کرنے لگتا ہے۔ شاعر کو لگتا ہے کہ اس کا دل اب اس کے بس میں نہیں رہا، گویا وہ کسی اور دنیا کا اسیر ہو چکا ہو۔ 'دور تک بات گئی' کا کنایہ بتاتا ہے کہ معاملہ اب محض دل لگی نہیں رہا، بلکہ عشق یا درد نے روح کی اتنی گہرائیوں کو چھو لیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
