“When is there ever release from the prison of life, O Jigar? If death finally arrives, life itself is gone.”
اے جگر، زندگی کی قید سے رہائی بھلا کب ممکن ہے؟ کیونکہ اگر موت آئی بھی تو زندگی ہی ختم ہو جائے گی۔
جگرؔ صاحب یہاں ہستی اور وجود کے ایک عجیب اور تلخ المیے کا ذکر کر رہے ہیں۔ انسان اکثر غموں اور پریشانیوں سے گھبرا کر زندگی کو ایک قید سمجھ بیٹھتا ہے اور سوچتا ہے کہ شاید موت اسے رہائی دلا دے گی۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ جب موت زنجیریں توڑنے آتی ہے تو خود زندگی ہی رخصت ہو جاتی ہے، یعنی اس آزادی کو محسوس کرنے کے لیے خود قیدی ہی باقی نہیں رہتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
