“The manifestation of the True Essence—Lord preserve us! The mirror of attributes lost all power to endure.”
خدا کی پناہ، ذاتِ الٰہی کا جلوہ اس قدر شدید تھا کہ صفات کے آئینے میں اسے برداشت کرنے کی تاب نہ رہی۔
اس شعر میں تصوف کا ایک نہایت پرشکوہ احساس سمویا گیا ہے کہ یہ کائنات تو محض باری تعالیٰ کی صفات کا ایک آئینہ ہے۔ لیکن جب محبوبِ حقیقی نے اپنے جلوۂ ذات کی بے نقاب تجلی دکھائی، تو وہ نور اتنا پُرجلال تھا کہ صفات کا آئینہ اس کی تاب نہ لا سکا اور دم بخود رہ گیا۔ یہ حقیقتِ مطلقہ کی بے پناہ تابناکی اور انسان کی مکمل بے خودی کا بڑا دلکش بیان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
