“Ah, the intoxicating raptures of youth! Barely had an eye blinked, and the night was gone.”
جوانی کی مستی اور سرشاری ایسی تھی کہ ابھی آنکھ جھپکی ہی تھی کہ پوری رات گزر گئی۔
یہ شعر جوانی کی مستی اور اس کے تیزی سے گزر جانے کے احساس کو بڑی خوبصورتی سے سمیٹتا ہے۔ شاعر شباب کے جوش اور سرمستی کو ایک ایسی مختصر رات سے تشبیہ دیتا ہے جو بس ایک پلک جھپکتے ہی تمام ہو گئی۔ اس میں ایک دھیما سا دکھ اور حسرت چھپی ہے کہ زندگی کا یہ سب سے سنہرا اور پرشور دور اتنی جلدی رخصت ہو جاتا ہے کہ انسان کو اس کا لطف سنبھالنے کی مہلت بھی نہیں ملتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
