“Let me behold with a myriad of eyes,That child's form, a flame which ne'er subsides.”
مجھے لاکھ آنکھوں سے اس بچے کے روپ کو دیکھنے دو، جو ایک نہ بجھنے والا شعلہ ہے۔
یہ شعر ایک بچے کے حیرت انگیز اور لازوال حسن کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ شاعر تمنا کرتا ہے کہ اسے "لاکھوں آنکھیں" مل جائیں تاکہ وہ اس بچگانہ روپ کو جی بھر کر دیکھ سکے، کیونکہ ایک عام نظر شاید اس بے مثال خوبصورتی کو پوری طرح سمیٹ نہیں سکتی۔ بچے کے وجود کو ایک "ایسی شعلہ" کہا گیا ہے جو کبھی بجھتا نہیں، جو اس کی ابدی، روشن اور کبھی ماند نہ پڑنے والی چمک کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی خوبصورتی ہے جو ہمیشہ اپنی تابناکی بکھیرتی رہتی ہے، جسے بس دیکھتے رہنے کو جی چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
